2 weeks ago

سورہ حجرات پر ایک نظر

سورہ حجرات قرآن مجید کی 40ویں سورت ہے جسکا شمار مدنی سورتوں میں ہوتا ہے۔ یہ سورت 26ویں پارے میں واقع ہے۔ حجرات کا لفظ، حجرہ کی جمع ہے۔اور یہ لفظ اس سورت کی چوتھی آیت میں آیا ہے۔ سورہ حجرات میں رسول اللہؐ کے ساتھ آداب معاشرت کا بیان ہوا ہے تو ساتھ ہی بعض معاشرتی اخلاق جیسے بدگمانی، تَجَسُّس اور غیبت کے بارے میں بھی ذکر ہوا ہے۔ اس سورت کی مشہور آیات میں سے ایک آیت اخوت ہے جس میں مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی کہا گیا ہے۔ ایک اور مشہور آیتآیہ نبأ ہے جس میں ہر خبر لانے والے پر اعتماد نہ کرنے کا کہا گیا ہے نیز اس سورت کی 13ویں آیت میں اللہ کے ہاں سب سے معزز اور مکرم شخص متقی انسان کو قرار دیا گیا ہے۔

فضیلت اور خواص

تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ اگر کسی نے سورہ ہجرات کی تلاوت کی، اللہ تعالی اسے ہر وہ شخص جو اس کی اطاعت کرتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے ان سب کے دس برابر حسنات عطا کرتا ہے(1) اسی طرح شیخ صدوق نے اپنی کتاب ثواب الاعمالمیں لکھا ہے کہ جس نے ہر رات یا ہر دن سورہ حجرات کی تلاوت کی، وہ رسول اللہ کے زائرین میں سے (2)ہوگا۔

  1. طبرسی، مجمع البيان، ۱۳۷۲ش، ج‏۹، ص۱۹۶.
  2.  صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۵.