2 months ago

انسان خدا کی عبادت کب تک کرتا رہے گا ؟

 

سوال: انسان خدا کی عبادت کب تک کرتا رہے گا ؟

 

جواب: سوره حجر، آیت99، میں خداوند ارشاد فرماتا ہے:وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ.[1] اور اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہئے جب تک کہ موت نہ آجائے۔      

لیکن ہم عبادت خداوندی کس طرح انجام دیں تاکہ ہم اس منزل کمال تک پہنچ جائے جہاں ہمارا معبود ہم سے چاہتا ہےتو  آئے ہم آپ کو وہاں تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ ہموار کرتے ہیں۔

 لیکن  قرآن سے ایک سوال کرتے ہیں کہ کس طرح منزل کمال تک پہنچا جائے؟

  سوره توبه، آیت122.میں خداوند عالم  ارشاد فرماتا ہے:فَلَوْ لَا نَفَرَ مِن كلُ‏ِّ فِرْقَةٍ مِّنهُمْ طَائفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فىِ الدِّينِ: ہر گروہ میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نہیں نکلتی ہے کہ دین کا علم حاصل کرے۔

 

اب واضح ہوگیا کہ دین حاصل کیا جائے حقیقت دین سے آشنا ہوناچاہئے تاکہ ہم ایک منزل عبودیت و کمال تک پہنچ جائے اس کے لئے علماء کے ایک گروہ سے ملنا ہوگا ان  سے درس حاصل کرنا ہوگا ان سے سوال و جواب کرنے ہوگے تاکہ ہم احکام اسلامی کو حاصل کرسکیں کیونکہ دین میں فکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:سَائِلُوا الْعُلَمَاءَ وَ خَاطِبُوا الْحُكَمَاءَ وَ جَالِسُوا الْفُقَرَاءَ.[2] علماء سے سوال کرو ، اورحکماء کے ساتھ گفتگو کرو ، اور فقراء کے ساتھ بیٹھو۔

بحار الأنوار، ج‏74، ص137.

دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نےفرمایا:: لَا  خَیْرَ فی قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَ عَیْنٍ لَا تَدْمَعُ وِ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔[3]

جس قلب میں خشوع نہ ہو اور جس آنکھ سے آنسو نہ نکلتے ہوں اور جس علم کا کوئی فائدہ نہ ہو اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے۔ تحفه مبلغین،ص81.

 

جس علم میں منفعت و مادی چیز تلاش کروگے اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن آج ہمارا  اور ہماری قوم  کا یہی حال ہے کہ ہم دنیاوی تعلیم کی طرف بھاگ رہے ہیں لیکن قرآن و حدیث اور احکام اسلامی سے غافل ہو رہیں ہے کیونکہ ہم صرف مادیات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اس وقت ضرورت ہے علم دین، احکام نماز روزہ،خمس کے مسائل سیکھے جائیں آج قوم میں ناجانے کتنے افراد ایسے مل جائے گے جو قرآن پڑھنا، نماز پڑھنا، اور دوسرے احکام بھی  نہیں جانتے ہیں لہذا ان سے گذارش ہے کہ علم دین حاصل کریں سب مال ،دولت یہی رہ جائے بس اس کے اعمال صالح اس کے ساتھ جائیں گے۔



[1]سوره حجر، آیت99.

[2] الجعفريات، ص230؛ مشكاة الأنوار في غرر الأخبار، ص132؛ سفينة البحار، ج‏7، ص134؛ بحار الأنوار، ج‏74، ص137.

[3] غرر الحكم و درر الكلم، ص793؛ شرح آقا جمال خوانسارى بر غرر الحكم و درر الكلم، ج‏6، ص436.