بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی

محمد بن علی بن موسی (195-220 ھ)، امام محمد تقی ؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے نویں امام ہیں۔ ان کی کنیتابو جعفر ثانی ہے۔ انہوں نے 17 سال امامت کے فرائض انجام دیئے اور 25 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ شیعہائمہ میں سے صرف آپ ہیں جو جوانی کے عالم میں شہیدہوئے۔ بچپن میں امامت ملنے کی وجہ سے امام رضاؑ کے بعض اصحاب نے ان کی امامت میں تردید کی جس کے نتیجے میں عبدالله بن موسی کو امام کہنے لگے اور کچھ دیگر افراد نے واقفیہ کی بنیاد ڈالی لیکن اکثر اصحاب نے آپ کی امامت کو قبول کیا۔

امام محمد تقیؑ کا لوگوں کے ساتھ ارتباط وکالتی سسٹم کے تحت خط و کتابت کے ذریعے رہتا۔

     ان کے  زمانےمیں اہل حدیث، زیدیہ، واقفیہ اور غلاتجیسے فرق بہ  سرگرم رہے۔ آپ شیعوں کو انکے باطلانہ عقائد سے آگاہ کرتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکتے اور غالیوں پر لعن کرتے تھے۔ آپ ؑ کے دوسرے مکاتب فکر سے مختلف کلامی و فقہی موضوعات پر علمی مناظرے ہوئے جن میں شیخین کی حیثیت، چور کے ہاتھ کاٹنے و احکام حج، معروف مناظرے ہیں۔

بچے تین سال کے ہونے سے پہلے ،اپنے سامان کو اپنے جسم کا حصہ سمجہتے ہیں اور بلکل بهی کسی کو دینا گوارا نهیں کرتے اور آپ کو بہی ان سے کوئی توقع نہیں رکہنی چاہیے کے وہ اپن پیر یا ہاتھ کسی کو دے!! تین سال تک اس کو یہ نہیں بولیئے کے : علی بیٹا ،اپنی بال اس کو دیدو!!

 پس اگر بچے کا من کیا تو وہ  اپنا سامان دیدیگا ، اس کے لیے آپ اس کو مجبور نہ کریئے اور ایسے مواقع میں دوسرے بچے کا دھیان بٹائے

حدودا چار سال کا ہونے کے بعد وہ ایسے سامان جن کا اس سے کوئ واستہ نہیں ہے دوسرو کو استفادہ کرنے کی پرمیشن دے دیگا مثلا ٹی وی ،فون ... وغیرا

پانچ سال کا ہوکر دوسرو کو اپنا سامان دینے مین رغبت دیکہایگا اور اپنے کہیلونے اپنے دوستو کو دیدیگا

پس صابر رہیئے اور اپنے بچے کو سمجھئے!!

 

 

 

جب آپ کا بچہ کہانا کہائے تو اس کی تعریف مت کریئے

اس نکتہ کی رعایت بہت ضروری ہے ! جب آپ کا بچہ کہانا کہائے تو اس کی تعریف نہیں کرنی چاہیئے ، اس کو تحفہ نہیں دینا چاہیے بلکہ یہ بہی نہیں دیکہانا چاہیے کے آپ بہت خوش ہیں! کہانا کہانا کوی بڑا یا ایسا کام نہیں ہھ جس کی تعریف کی جائے! بچے کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم کہانا اسلیئے کہاتیں ہیں کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ کہ والدین کو خوش کرنے کے لیئے یا تحفہ لینے کے لیئے...! اگر بچے کو اس بات کا احساس ہو گیا کے آپ کے لیے اس کا کہانا کہانا کتنا اہمیت رکہتا پے تو وہ اپنی ضد منوانے کے لیے کہانا نہ کہا کر اس کا فایدہ اٹہائے گا  

لیلۃ الرغائب،آرزوؤں کی شب

ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ کو لیلۃ الرغائب کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے آرزوؤں کی شب۔یہ شب بہت زیادہ فضیلت کی حامل ہے اور اسکے کچھ خاص اعمال بھی ہیں۔

 

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ماہ رجب کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ سے غافل نہ ہو کیونکہ فرشتوں نے اس رات کا نام ”لیلة الرغائب“ رکھا ہے۔

 

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے اس رات کے لیے ایک نماز نقل ہوئی ہے جس کے فضائل کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے

 فرمایا: جو شخص اس نماز کو پڑھے گاخدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا․․․ اور قیامت میں اپنے خاندان سے سات سو لوگوں کی شفاعت کرے گا اوراس کے مرنے کے بعد پہلی رات کو قبر میں خداوند عالم اس کے بدلے میں ایک خوبصورت ، نیک اور فصیح و گویا چہرہ کو اس کی طرف بھیجے گا وہ خوبصورت چہرہ اس سے کہے گا : ” اے میرے حبیب! تمہیں بشارت ہو کہ تمہیں ہر شدت و سختی سے نجات مل گئی“ وہ اس نورانی چہرہ سے پوچھے گا تم کون ہو؟ میں نے ابھی تک تم سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا ہے اور تم جیسی خوشبو آج تک میرے مشام میں نہیں آئی ہے۔وہ خوبصورت چہرہ جواب دے گا: اے میرے حبیب ! میں تمہاری اس نماز کا بدلا ہوں جس کو تم نے فلاں شہر، فلاں ماہ اور فلاں سال میں انجام دی تھی میں آج تمہارے پاس آئی ہوں تاکہ تمہارا حق ادا کروں اور تمہاری تنہائی میں تمہاری مونس و غمخوار رہوں، اور وحشت کو تم سے دور کروں، (اور ہمیشہ تمہارے پاس رہوں) اس وقت تک جب سب کو اٹھایاجائے گااور قیامت میں تمہارے سر پر سایہ فگن رہوں، خلاصہ یہ کہ کبھی بھی تم سے اس نیک کام کابدلہ ختم نہیں ہوگا.

 نماز کا طریقہ

اس با برکت نماز کا طریقہ  یہ ہے کہ ماہ رجب  کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھیں اور جب شب جمعہ آجائے تو نماز مغرب و عشاء کے درمیان دو دو رکعت کرکے بارہ رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورہ قدر اور بارہ مرتبہ سورہ توحید  پڑھیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ کہیں: 

اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النبیِ الاُمِّیِ وَ عَلیٰ آلِہٰ 

پھر سجدے میں جا کر ستر مرتبہ کہے:سُبُّوْحُ، قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَۃِ وَ الرُّوْح سجدے سے سر اٹھا کر ستر مرتبہ کہے:رَبِّ اغْفَرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ أَنَّکَ اَنْتَ العَلِیُّ الْاَعْظَمُ

 پھر سجدے میں جائے اور ستر مرتبہ کہے: سُبُّوْحُ، قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَۃِ وَ الرُّوْحِ

پھر اپنی حاجت طلب کرے ،انشاء اللہ پوری ہوگی۔

 

مفاتیح الجنان۔

:وسائل الشیعة، ج 8، ص 98، باب 6.

 

سید ابن طاوس فی الاقبال الاعمال 632۔

 

بحار الانوار جلد 95 ۔ صفحہ 396۔ باب 106

 

کتاب المراقبات حاج میرزا جواد ملکی تبریزی

 

کفعمی فی بلد الامین 

 

ابن جوذی فی الکتاب الموضوعات

22اسفند
22اسفند