بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
4 months ago

شیخ حر عاملی

شیخ حر عاملی (۱۰۳۳ - ۱۱۰۴ق) کے نام سے معروف گیارھویں صدی کے امامیہ کے محدث، فقیہ اور وسائل الشیعہ سمیت کئی کتب کے مؤلف ہیں ۔وہ اخباری تھے اورکتب اربعہ کی تمام احادیث کی صحت کے قائل تھے ۔اس نکتۂ نظر کی تائید میں انہوں نے وسائل الشیعہ کے آخر میں 20 کے قریب دلائل ذکر کئے ہیں۔ وہ قائل تھے کہ علم تک دسترسی حاصل ہونے کی بنا پر ظن پر عمل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

زندگی‌ نامہ

شیخ حر چالیس سال کی عمر میں سال ۱۰۷۳ق زیارت عتبات عالیات کیلئے جبل عامل سے عراق گئے۔ وہاں سے زیارت امام رضا(ع) کیلئے عازم مشہد ہوئے. اس جگہ کو اپنی زندگی کیلئے مناسب سمجھ کر یہیں قیام کیا ۔ سال ۱۰۸۷ اور ۱۰۸۸ میں دوبارہ سفر حج‌ کے لیے گئے۔ سال ۱۰۸۸ ہجری کے آخری سفر حج کے موقع پر عثمانی حکومت کے تحت ترکوں نے بعض ایرانیوں اور شیعوں کا قتل عام کیا اور اس کے لئے یہ بہانہ تراشا گیا انہوں نے خانۂ خدا کی اہانت اور بے حرمتی کی ہے۔ ان فسادات میں شیخ حُر عاملی اشراف مکہ اور سادات حسنی میں سے سید موسی بن سلیمان کے ذریعے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور یمن کے راستے عراق نکل گئے۔ [1] اس دوران دو مرتبہ زیارت عتبات کیلئے عراق گئے۔ ایک سفر کے دوران اصفہان بھی گئے اور وہاں کے بزرگ علما جیسے علامہ مجلسی سے ملاقات کی۔ اس سفر میں علامہ مجلسی نے ان کیلئے اجازه روایت لکھا اور شیخ حر عاملی نے بھی ان کے لیے اجازۂ روایت تحریر کیا۔ اسی سفر میں علمائے اصفہان نے شاه سليمان صفوى کے ذریعے ان سے ملاقات ترتیب دی۔[2] شاه سلیمان صفوی نے قاضی‌القضات اور خراسان کے شیخ‌الاسلامی کا عہدہ ان کے سپرد کیا۔[3]

وفات

شیخ حر عاملی ۲۱ رمضان ۱۱۰۴ق کو ۷۱ سال کی عمر گزار کر مشہد میں وفات پائی اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔ ان کا مقبرہ اس وقت حرم امام رضا(ع) کے صحن انقلاب کے ایک ایوان میں واقع ہے۔ [4[

  1.  وسائل الشیعہ، ج۱، مقدمہ تحقیق، ص۷۹.
  2.  کتاب شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
  3. بحارالانوار، ج۱۰۷، ص۱۰۷ - ۱۱۱. اثبات الہداۃ، ج۱، ص۲۱. امل الآمل، ج۱، ص۴۷ - ۵۱.
  4.  اثبات الہداۃ، ج۱، ص۲۱