بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
2 years ago

چھٹا سبق:

خدا کی معرفت  کا  دوسرا راستہ

ب۔ بیرونی راستہ


ہم جس دنیا  میں  زندگی بسر کر رھے   ہیں ،اس پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اس حقیقت تک پہنچتے  ہیں  کہ  کائنات درہم برہم نہیں   ھے  بلکہ تمام موجودات ایک معیّن راہ پر

 گا مزن  ہیں   اور   کائنات  کا  نظم ایک بڑی فوج کے مانند  ھے  جو مختلف  اور  منظم یونٹوں  میں  تقسیم ھوکر ایک معین مقصد کی طرف بڑھ رہا  ھے  ۔

مندر جہ ذیل ن کا ت اس سلسلہ  میں  ہر شبہہ کو دور کرسکتے  ہیں :

۱۔ہر زندہ مخلوق کے وجود  میں  آنے  اور  باقی رہنے کے لئے ضروری  ھے  کچھ خاص قوا نین  اور  حالات ایک دوسرے سے جڑُے ھوئے پائے جائیں ۔مثلاً ایک درخت کے وجود  میں  آنے کے لئے:زمین،مناسب آب وھوا  اور  ایک معیّن دھوپ  اور  گر می کی ضرورت ھوتی  ھے  تاکہ بیج کو ڈالا جائے  اور  وہ اچھی طرح سے غذا حاصل کرے ،تنفس کرے ،سبز ھوجائے  اور  نشو ونما پائے ۔

ان حالات کے بغیر اس کی نشو ونما ممکن نہیں   ھے  ،ان حالات کو منتخب کرنے  اور  ان مقد مات کو فراہم کرنے کے لئے عقل  اور  علم ودانش کی ضرورت  ھے ۔

۲۔ہر مخلوق  کا  اپنا ایک خاص اثر ھوتا  ھے  ،پانی  اور  آگ  میں  سے ہر ایک  کا  اپنا خاص اثر  ھے  ،جو ان سے کبھی جدا نہیں  ھوتا  ھے  بلکہ ہمیشہ ایک ثابت  اور  پائدار قانون کی پیروی کرتا  ھے  ۔

۳۔زندہ مخلوقات کے تمام اعضاء آپس  میں  ایک دوسرے  کا  تعاون کر تے  ہیں   مثال کے طور پر یہی انسان  کا  بدن جو بذات خود ایک عالم  ھے  ،عمل کے وقت اس کے تمام اعضاء شعوری  اور  لا شعوری طور پر ایک خاص ہماہنگی سے  کام کرتے  ہیں  ۔مثال کے طور پر اگر کسی خطرہ سے دوچار ھوجائے تو تمام اعضاء دفاع کے لئے متحد ھو جاتے  ہیں  ۔یہ نزدیک رابطہ  اور  تعاون، کائنات کے نظم کی ایک  اور  علامت  ھے  ۔

۴۔ کائنات پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ھو جاتا  ھے  کہ نہ صرف ایک زندہ مخلوق کے اعضاء وجسم بلکہ  کائنات کی تمام مخلوقات بھی آپس  میں  ایک خاص ہماہنگی رکھتی  ہیں ۔ مثلاً زندہ مخلوقات کی نشو ونماکے لئے سورج چمکتا  ھے  ،بادل برستا  ھے  ،ھوا چلتی  ھے  ،زمین  اور  زمین کے منابع اس کی مدد کرتے  ہیں  ۔یہ  کائنات  میں  ایک معین نظام کے وجود کی نشانیاں  ہیں  ۔

”نظم وضبط“ اور  ”عقل“ کا  رابطہ

یہ حقیقت ہر انسان کے ضمیر پر واضح  ھے  کہ جہاں ک ہیں  بھی نظم پایا جاتا ھو وہ”عقل،فکر،نقشہ  اور  مقصد“کی دلیل  ھے ۔

کیونکہ انسان جہاں ک ہیں  بھی ایک ثابت نظم وضبط  اور  قوانین  کا  مشاہدہ کرے وہ جانتا  ھے  کہ اس کے ساتھ ہی علم وقدرت کے ایک مبدا کی بھی تلاش  اور  جستجو کر نی چاہئے  اور  اپنے ضمیر کے اس ادراک  میں  کسی استدلال کی ضرورت  کا  احساس بھی نہیں  کرتا  ھے ۔

وہ اچھی طرح سے جانتا  ھے  کہ ایک اندھا  اور ان پڑھ شخص ہر گز ایک ٹائپ مشین سے ایک اچھا مضمون یاایک اجتماعی و تنقیدی مقالہ نہیں  لکھ سکتا  ھے  ، اور  ایک دوسال  کا  بچہ  کا غذ پر نامنظم صورت  میں  قلم چلاکر ہر گز ایک اچھی  اور  گراں قیمت نقا شی نہیں  کرسکتا  ھے ۔ بلکہ اگر ہم ایک اچھا مضمون یا گراں قیمت مقالہ دیکھتے  ہیں  تو جانتے  ہیں  کہ ایک تعلیم یافتہ  اور  عقل و شعور والے کسی شخص نے اسے لکھا  ھے  ،یااگر کسی نمائش گاہ  میں  نقاشی  کا  ایک اچھا نمو نہ دیکھتے  ہیں  تو اس بات  میں  شک وشبہہ نہیں  کرتے  ہیں  کہ اسے ایک ہنر مند نقاش نے بنایا  ھے  ،اگرچہ ہم نے کبھی اس ہنر مند نقاش کو نہ دیکھا ھو۔

اس لئے جہاں ک ہیں  بھی نظم وضبط پا یا جائے اس کے ساتھ عقل و ھوش ضرور ھو گا  اور  یہ نظم جس قدر بڑا،دقیق تر  اور  دلچسپ ھو گا ،جس علم و عقل نے اسے خلق کیا  ھے  وہ بھی اسی قدر بڑا ھو گا ۔

بعض اوقات اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ ہر منظم چیز کے لئے عقل ودانش کے سر چشمہ کی ضرورت  ھے  ،ریاضیات عالی  میں  ذکر شدہ ”احتمالات کے حساب“سے مدد لی جاتی  ھے   اور  اس طریقہ سے ثابت کرتے  ہیں  کہ مثلاًایک ان پڑھ شخص اگر ٹائپ مشین کے ذریعہ اتفاقی طور پر مشین کے بٹن دبا نے سے ایک مقالہ یا چند اشعار کو لکھنا چا ھے  تو”احتمالات کے حساب “کے مطابق اس  میں  اربوں سال لگ جائیں گے کہ حتی کرئہ زمین کی پوری عمر بھی اس کے لئے  کا فی نہیں  ھوگی ۔(اس کی مزید وضاحت کے لئے کتاب”آفرید گار جہان“یا کتاب ”در جستجو خدا“ کا  مطالعہ فر مائیں)

قرآن مجید فرماتا  ھے :

<سنریھم آیٰتنا فی الاٰفاق وفی اٴنفسھم حتّیٰ یتبیّن لھم اٴنّہ الحقّ اٴو لم یکف بربّک اٴنّہ علیٰ کل شیءٍ شھید>[1]

”ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم  میں   اور  خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ھوجائے کہ وہ برحق  ھے   اور  کیا تمھارے پروردگار کے لئے یہ بات  کا فی نہیں   ھے ۔کہ وہ ہرشے  کا  گواہ  اور  سب  کا  دیکھنے والا  ھے ۔“    

[1]سورہ فصلت/۵۳