بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
3 years ago

چوتھا سبق:


چوتھا سبق: ایک اہم سوال  کا  جواب

سوال

گزشتہ سبق  میں  ہم یہاں تک پہنچے تھے  کہ ہم توحید  اور  خداپرستی کی آواز کو اپنی روح کے اندر سے سنتے  ہیں  ،خاص کر مشکلات  اور  مصیبتوں کے وقت یہ آواز قوی تر ھو جاتی  ھے   اور  ہم بے ساختہ طور پر خدا کو یاد کرکے اس کی لامحدود قدرت  اور  لطف و محبت سے مدد مانگتے  ہیں ۔

یہاں پر ممکن  ھے  یہ سوال پیش کیا جائے کہ یہ اندرونی آواز،جسے ہم فطرت کی آواز کہتے  ہیں  ،ان تبلیغات  کا  نتیجہ ھو جو معاشرہ کے ماحول ،مکتب و مدرسہ  اور  ماں باپ سے ہم سنتے  ہیں   اور  یہ ہمارے لئے ایک قسم کی عادت بن گئی  ھے ۔
جواب

اس اعتراض  کا  جواب ایک مختصر سے مقدمہ کے ذریعہ واضح ھو جاتا  ھے ۔

عادتیں  اور  رسم و رواج ،متغیّر  اور  ناپائیدار چیزیں  ہیں  ۔یعنی ہم کسی عادت  اور  رسم ورواج کو پیدا نہیں  کرسکتے  ہیں  جو پوری تاریخ بشر کے دوران تمام اقوام  میں  یکساں صورت  میں  باقی رھے  ھوں۔جو مسائل آج عادت  اور  رسم ورواج کے طور پر رونما ھوتے  ہیں ،ممکن  ھے  کل بدل جائیں ۔اسی وجہ سے ممکن  ھے  ایک قوم کے رسم ورواج  اور  عادات دوسری قوموں  میں  نہ پائے جائیں۔

اس لئے اگر ہم مشاہدہ  کریں  کہ ایک چیز تمام قوموں  اور  ملتوں کے در میان ہر زمان وم کا ن  میں  بلا استثنا ء موجود ھے  تو ہمیں   سمجھنا چاہئے کہ اس کی ایک فطری بنیاد  ھے  جوانسان کی روح و جان کی ساخت  اور  بناوٹ  میں  قرار پائی  ھے ۔

مثال کے طور پر ایک ماں کی اپنے فرزند کی نسبت محبت کو کسی تلقین،تبلیغ عادت ورسم ورواج  کا  نتیجہ قطعاًنہیں  کہا جاسکتا  ھے  کیونکہ ہم کسی قوم وملت  اور  کسی زمان و م کا ن  میں  نہیں  پاتے  ہیں  کہ ایک ماں اپنی اولاد سے محبت نہیں  کرتی ھو۔

البتہ ممکن  ھے  ایک ماں نفسیاتی بیماری کی وجہ سے اپنے فرزند کو نابود کر دے یا کوئی باپ جاہلیت کے زمانہ  میں  غلط  اور  خرافی تفکر کی وجہ سے اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردے ،لیکن یہ انتہائی شاذو نادر  اور  استثنائی مواقع  ہیں ،جوجلدی ہی ختم ھوکر اپنی اصلی حالت(یعنی فرزند سے محبت)پر لوٹ آتے  ہیں ۔

مذکورہ تمہید کے پیش نظر ہم آج کے  اور  ماضی کے انسانوں کی خداپرستی کے مسئلہ پر ایک نظر ڈالتے  ہیں :

(چونکہ یہ سبق قدرے پیچیدہ  ھے  اس لئے اس پر زیادہ غوروفکر کرنے کی ضرورت  ھے )

۱۔عمر انیات کے ماہرین  اور  بڑے بڑے مورخین کی گواہی کے مطابق ہم کسی ایسے زمانے کو نہیں  پاتے  ہیں  جس  میں  مذہب  اور  مذہبی ایمان لوگوں  میں موجود نہ رہاھو بلکہ ہر عصر اور  ہر زمانے  میں  دنیا  میں  ہر جگہ کسی نہ کسی صورت  میں  مذہب موجود تھا  اور  یہ بذات خود اس بات کی واضح دلیل  ھے  کہ خداپرستی  کا  سر چشمہ انسان کی روح وفطرت کی گہرائیوں  میں  موجود  ھے  نہ یہ کہ عادات،رسم و رواج  اور  تعلیم و تربیت  کا  نتیجہ  ھے  ۔اس لئے کہ اگر یہ عادات ،رسم ورواج  اور  تعلیم وتربیت  کا  نتیجہ ھوتا تو اس صورت  میں  اسے عام  اور  لافانی نہیں  ھونا چاہئے تھا ۔

یہاں تک کہ ایسے آثار و قرائن بھی موجود  ہیں  جن سے معلوم ھوتا  ھے  کہ ماقبل تاریخ  میں  زندگی بسر کرنے والے لوگ بھی ایک قسم کے مذہب کے قائل تھے  (ما قبل تاریخ  کا  زمانہ اس زمانہ کو کہتے  ہیں  کہ ابھی لکھائی ایجاد نہیں  ھوئی تھی  اور  انسان اپنی یادگار کے طور پر تحریر نہیں  چھوڑ سکتا تھا۔

البتہ اس  میں  کوئی شک و شبہہ نہیں   ھے  کہ چونکہ ابتدائی لوگ خدا کو ایک مافوق طبیعی وجود کی حیثیت سے نہیں  پہچان سکتے تھے  اس لئے اسے مادی مخلوقت کے در میان تلاش کرتے تھے   اور  اپنے لئے مادی مخلوقات سے بت بناتے تھے  ۔لیکن انسان نے عقل و فکر کی ترقی کے ساتھ رفتہ رفتہ حق کو پہچان لیا  اور  مادی مخلوقات کے بنائے ھو ئے بتوں کو چھوڑ کر طبیعی  کائنات کے م اور اء خدا کی لا محدود قدرت سے آگاہ ھوا۔

۲۔بعض ماہرین نفسیات نے صراحتاًکہا ھے  کہ انسان کی روح کے چارپہلو یا چار اصلی حس پائے جاتے  ہیں :

۱۔”دانائی کی حس“:  یہ حس انسان کوعلم و دانش حاصل کرنے کی ترغیب دیتی  ھے   اور  اس کی روح کو علم حاصل کرنے  کا  شوق دلاتی  ھے  ،خواہ یہ علم اس کے لئے مادی فائدہ رکھتا ھو یانہ ھو۔

ب۔”بھلائی کی حس“یہ حس عالم بشریت  میں  اخلاقی  اور  انسانی مسائل  کا  سر چشمہ  ھے ۔

ج۔”زیبائی کی حس“:یہ حس،حقیقی معنی  میں  شعر،ادبیات  اور  فنّ وہنر  کا  سر چشمہ  ھے ۔

د۔”مذہبی حس“:یہ حس،انسان کو معرفت خدا  اور  اس کے فر مان کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتی  ھے  ۔اس طرح ہم دیکھتے  ہیں  کہ مذہبی حس انسانی روح کی ایک بنیادی  اور  اصلی حس  ھے  ۔یعنی یہ حس نہ کبھی اس سے جدا تھی  اور  نہ کبھی جدا ھو گی۔

۳۔آئندہ بحثوں  میں  ہمیں   معلوم ھوجائے گا کہ اکثر مادہ پرست  اور  منکرین خدا  نے بھی ایک طرح سے خدا کے وجود  کا  اعتراف کیا  ھے ،اگرچہ وہ لوگ خدا کے نام لینے سے پرہیز کرتے  ہیں   اور اسے فطرت  یا دوسرے نام سے پ کارتے  ہیں  ،لیکن اس فطرت کے لئے ایسی صفتوں کے قائل ھوتے  ہیں  کہ جو خدا کی صفات کے مشابہ  ہیں ۔

مثلاًکہتے  ہیں  :فطرت نے اگر انسان کو دو گردے دئے  ہیں ،یہ اس لئے  ھے  کہ اسے معلوم تھا،ممکن  ھے  ان دو گردوں  میں  سے ایک خراب ھوجائے تو دوسرا گردہ  اس کی زندگی کو جاری رکھ سکے ،وہ ایسی ہی تعبیرات بیان کرتے  ہیں  ۔کیا یہ بات ایک بے شعور فطرت کے ساتھ متناسب  ھے  ؟یا یہ کہ یہ ایک ایسے خداوند متعال کی طرف اشارہ  ھے  جو لامحدود علم وقدرت  کا  مالک  ھے ،اگرچہ انھوں نے اس  کا  نام فطرت رکھا  ھے ۔

بحث  کا  نتیجہ:اس بحث  میں  جو کچھ ہم نے بیان کیا ،اس سے یہ نتیجہ حاصل کرتے  ہیں  :

خدا کی محبت ہماری روح  میں  ہمیشہ موجود تھی  اور  ھو گی۔

خدا  کا  ایمان ایک ایسا ابدی شعلہ  ھے  جو ہمارے قلب و روح کو گرم کرتا  ھے ۔

خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لئے ہم مجبور نہیں   ہیں  کہ طولانی راستے طے  کریں ،ہمیں   اپنے وجود کی گہرائیوں  میں  نظر ڈالنی چاہئے،خدا پر ایمان کو ہم وہاں پر پائیں گے۔

قرآن مجید فرماتا   ھے :

<ونحن اٴقرب إلیہ من حبل الورید>[1]

 ” اور  ہم اس سے رگ گردن سے بھی زیادہ قریب  ہیں ۔“