بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
2 years ago

پہلا سبق

بسم الله الرحمن الرحیم

پہلا سبق: ایک اہم سؤال: موت اختتام  ھے  یا آغاز؟

 
اکثر لوگ موت سے ڈرتے  ہیں ، کیوں؟

موت ہمیشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک وحشتناک ہیولا کے مانند مجسم ھوتی رہی  ھے ۔ موت کی فکر و اندیشہ نے بہت سوں کی زندگی کی شیرینی کے  کام و دہن کو تلخ بنادیا  ھے ۔

لوگ ، نہ صرف موت سے ڈرتے  ہیں  بلکہ قبرستان کے نام سے بھی نفرت کرتے  ہیں   اور  قبروں  اور  قبرستانوں کوزرق و برق  اور  آراستہ کرکے ان کی اصلی ماہیت کو بھلانا چاہتے  ہیں ۔

دنیا کی مختلف ادبیات  میں  یہ خوف واضح طور پر نمایاں  ھے   اور  ہمیشہ اسے ”موت  کا  ہیولا“، ”موت  کا  پنجہ“  اور  ”موت  کا  طمانچہ“ جیسی تعبیرات سے یاد کیاجاتا ھے !

جب کسی مردہ  کا  نام لیتے  ہیں ، تو مخاطب کو خوف وحشت سے بچانے کے لئے ”اب سے روز“،”میری زبان گنگ ھو“،” سات پہاڑوں سے دور“،”اس کی مٹی کے برابر تمھاری عمر ھو“ جیسے جملے کہکر مخاطب  اور موت کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتے  ہیں ۔

اس عام تصور کے برعکس کیوں بعض لوگ نہ صرف موت سے نہیں  ڈرتے تھے  بلکہ موت کے وقت ان کے ھونٹوں پر مسکراہٹ ھواکرتی تھی  اور فخر کے ساتھ موت  کا  استقبال کرتے تھے ؟

تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں   معلوم ھوتا ھے  کہ جب کچھ لوگ آب حیات  اور  جوانی کی اکسیر کے پیچھے  دوڑتے تھے  تو اسی وقت بعض لوگ عاشقانہ طور پر جہاد کے محاذوں کی طرف دوڑتے تھے   اور  موت  کامسکراکر استقبال کرتے تھے   اور  کبھی اپنی طولانی زندگی سے شکوہ کرتے ھوئے اپنے معشوق کے دیدار کے دن  اور  لقاء اللہ کی آرزو  اور  تمنّا کرتے تھے ۔  اور  آج بھی ہم حق وباطل کے محاذ پر ان ہی مناظر  کا  واضح طور پر مشاہدہ کرتے  ہیں  کہ کس طرح سرفروش مجاہدین شہادت کے استقبال کے لئے دوڑتے  ہیں ۔

خوف موت  کا  اصلی سبب

غور و فکر  اور  تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے  ہیں  کہ اس دائمی خوف و حشت  کا  اصلی سبب صرف دوچیزیں  ہیں:

۱۔ موت کو فنا سمجھنا

انسان ہمیشہ نیستی (عدم) سے بھاگتا ھے ۔ بیماری سے بھاگتا ھے  کیونکہ یہ صحت و سلامتی کی نیستی  ھے ، تاریکی سے خائف  ھے  کیونکہ یہ روشنی کی نیستی  ھے ۔ فقر و محتاجی سے ڈرتا ھے  کیونکہ یہ تونگری کی نیستی  ھے ۔ حتی کہ انسان کبھی ایک خالی گھر سے بھی ڈرتا ھے   اور  ایک سنسان بیا بان  میں  خوف سے دوچار ھوجاتا ھے  کیون کہ وہاں پرکوئی نہیں  ھوتا!

تعجب کی بات یہ  ھے  کہ انسان خود مردہ سے بھی ڈرتا  ھے ، مثال کے طور پر ایک ایسے کمرے  میں  رات گزارنے کے لئے کبھی حاضر نہیں  ھوتا  ھے  جس  میں  کوئی مردہ پڑاھو، حالانکہ جب وہی انسان زندہ تھا تو وہ اس سے نہیں  ڈرتا تھا!

اب ہم دیکھتے  ہیں  کہ انسان کیوں عدم  اور  نیستی سے خائف ھوتا ھے ۔ اس  کا  سبب واضح  ھے  کہ، ہستی  اور  ہستی کے درمیان چولی دامن  کا ساتھ ھوتا ھے ، ایک موجود چیز دوسری موجود چیز سے آشنا ھوتی  ھے ۔ وجود  اور  عدم کے درمیان ہرگز واقفیت نہیں  ھوتی  ھے ، اس لئے نیستی سے ہماری اجنبیت بالکل فطری بات  ھے ۔

اب اگر ہم موت کو تمام چیزوں  کا  خاتمہ سمجھیں  اور  تصور  کریں  کہ مرنے سے تمام چیزیں ختم ھوجاتی  ہیں  تو ہمیں   اس سے ڈرنے  کا  حق  ھے ، یہاں تک کہ ہم اس کے نام  اور  تصور سے بھی وحشت  کریں  تو حق  ھے ، کیونکہ موت ہم سے ہر چیز کو چھین لیتی  ھے ۔

لیکن اگر ہم موت کو ایک نئی زندگی ، ابدی حیات  کا  آغاز  اور  ایک عظیم دنیا کی طرف کھلنے والا دریچہ سمجھیں تو فطری طور پر نہ صرف اس سے وحشت زدہ نہیں   ھوں گے بلکہ اس کی طرف پاکیزگی  اور  سربلندی سے قدم بڑھانے والوں کو مبارک باد بھی دیںگے۔

۲۔سیاہ اعمال نامے

ہم بعض ایسے افراد کو بھی جانتے  ہیں  جو موت کو نابودی  اور  نیستی سے تعبیر نہیں  کرتے  ہیں   اور  مرنے کے بعد والی زندگی کے ہرگز منکر نہیں   ہیں ، لیکن اس کے باوجود موت سے ڈرتے  ہیں ۔

انھیں موت سے ڈرنے  کا  حق  ھے ، ان کی مثال ان خطرناک مجرموں کی جیسی  ھے ، جو زندان سے باہر ن کا لے جانے سے ڈرتے  ہیں  کیونکہ وہ جانتے  ہیں  کہ انھیں زندان سے باہر لے جانے کی صورت  میں  پھانسی پر لٹ کا دیا جائے گا۔

وہ زندان کی سلاخوں سے محکم چمٹے رہتے  ہیں ،اس لئے نہیں  کہ وہ آزادی سے متنفر ہیں ،بلکہ وہ اس آزادی سے ڈرتے  ہیں  جس  کا نتیجہ موت کی سزا  ھے ،اسی طرح وہ بد  کار  اور  ظالم بھی موت سے ڈرتے  ہیں  جو اپنے بدن سے روح کے نکلنے کو اپنے برے اعمال  اور ظلم وستم کی ناقابل برداشت سزا  کا  مقدمہ جانتے  ہیں  ۔

لیکن جو لوگ نہ موت کو ”فنا“جانتے  ہیں   اور  نہ ان  کا  ”اعمال نامہ سیاہ“ھوتا  ھے ،وہ موت سے کیوں ڈریں؟

بے شک ایسے لوگ زندگی کو بھی پورے وجود سے چاہتے  ہیں ،لیکن اس زندگی سے موت کے بعد والی دنیا  میں  نئی زندگی کے لئے زیادہ فائدہ اٹھا نے کے لئے ،ایسی موت  کا  استقبال کرتے  ہیں  جو خدا کی مرضی ،اس کے مقصد  اور  افتخار کے لئے ھو۔

دو مختلف نظر ئیے

ہم نے کہا کہ لوگ دوطرح کے  ہیں  ایک گروہ ان لوگوں  کا   ھے  جو اکثریت  میں   ہیں  ،وہ موت سے بیزار  اور  متنفر  ہیں ۔

لیکن دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل  ھے  جو اس موت  کا  استقبال کرتے  ہیں  جو ایک عظیم مقصد کی راہ  میں  ھو جیسے خداکی راہ  میں  شہادت ،یا کم از کم جب احساس کرتے  ہیں  کہ ان کی طبیعی عمر آخر تک پہنچ گئی تو ان پر کسی بھی قسم  کا  غم و اندوہ طاری نہیں  ھوتا  ھے ۔

اس  کا  سبب یہ  ھے  کہ مذکورہ دونوں گروھوں کے دو مختلف نظرئیے  ہیں :

پہلا گروہ :ان لوگوں کا  ھے  جو یا تو موت کے بعد والی دنیا  کا  بالکل ایمان و عقیدہ نہیں  رکھتے  ہیں  یا ابھی پوری طرح اس پر یقین پیدانہیں  کرسکے  ہیں ،لہذا یہ لوگ موت کے لمحہ کو تمام چیزوں کو الوداع کہنے  کا  لمحہ جا نتے  ہیں  ،البتہ تمام چیزوں کو الوداع کہنا وحشتناک  ھے ، نور  اور  روشنی سے نکل کر مطلق تاریکی  میں  قدم رکھنا بہت ہی درد ناک  ھے ۔

اسی طرح کسی مجرم  کا  زندان سے آزاد ھوکر ایک عدالت  میں  پیش ھونابھی وحشتناک  ھے  جہاں پر اس کے جرم کے اسناد آشکار ھوں ۔

دوسرا گروہ :یہ ان لوگوں پر مشتمل  ھے  جو موت کو ایک نئی زندگی  کا  آغاز  اور  ایک محدود و تاریک ماحول سے باہر نکل کر ایک وسیع  اور  نوانی عالم  میں  قدم رکھنا جانتے  ہیں ۔

ان لوگوں کی نظروں  میں  موت،ایک تنگ  اور  چھوٹے پنجرہ سے آزاد ھوکر لا محدود آسمان  میں  پرواز کرنا  اور  تنگ نظریات، لڑائی جھگڑوں ،کشمکشوں،ناراضگیوں ،کینہ توزیوں  اور  جنگ وجدل سے بھرے ایک ماحول سے نکل کر ایک ایسی وادی  میں  قدم رکھنا  ھے  جو ان تمام آلود گیوں سے پاک ھو۔فطری بات  ھے  کہ ایسے لوگ اس قسم کی موت سے خوفزدہ نہ ھوں  اور  حضرت علی(ع) کے مانند ک ہیں :

”لابن ابی طالب انس بالموت من الطفل بثدی امہ“

”خدا کی قسم فرزند ابیطالب کو موت سے انس اس شیر خوار بچے سے زیادہ  ھے  جو اپنی ماں کی چھاتیوں سے انس رکھتا  ھے ۔

ٌیافارسی شاعر کے مندرجہ ذیل اشعار کے مانند ک ہیں :

مرگ اگر مرد است گونزد من آی     تادر آغوشش بگیرم تنگ تنگ!

من از اوجانی ستانم جاودان       اوزہ من دلقی ستاند رنگ رنگ!

(موت اگر دلیر  ھے  تواس سے کہدو کہ میرے پاس آجائے تاکہ  میں  اسے اپنی گود  میں  لے لوں ۔ میں  نے اس سے جاودانہ زندگی حاصل کی  ھے   اور  اس نے مجھ سے ایک درویشانہ پیراہن لیا  ھے )۔

یہ بلا وجہ نہیں   ھے  کہ ہم تاریخ اسلام  میں  ایسے افراد کو پاتے  ہیں ،جو امام حسین علیہ السلام  اور  ان پر جان نچھ اور  کرنے والے ساتھیوں کے مانند جس قدر شہادت  کا  لمحہ ان کے نزدیک آتاتھا ،ان کے چہروں پر شادابی بڑھتی جاتی تھی  اور  اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے کے شوق  میں  پھولے نہیں  سماتے تھے ۔

اسی لئے ہم حضرت علی علیہ السلام کی فخر و مباہات سے بھری زندگی کی تاریخ  میں  پڑھتے  ہیں  کہ جب ظالم قاتل کی تلوار کی ضرب آپ (ع) کے سر اقدس پر لگی توآپ(ع) نے فرمایا:

”فزت وربّ الکعبة“

”ربّ کعبہ کی قسم  میں   کامیاب ھوگیا“

یہ واضح  ھے  کہ س  کا  مطلب ہر گز یہ نہیں   ھے  کہ انسان خوامخواہ اپنے آپ کو خطرہ  میں  ڈال دے  اور  زندگی کی عظیم نعمت سے چشم پوشی کر لے  اور  عظیم مقاصد تک پہنچنے کے لئے اس سے استفادہ نہ کرے۔

بلکہ مقصود یہ  ھے  کہ زندگی سے پورا پورا استفادہ کرے لیکن اس کے خاتمہ سے ہرگز خوف زدہ نہ ھو خاص کر اس وقت جب وہ عظیم مقاصد کی راہ پر گامزن ھو۔

{منبع : نوجوانوں کے لئے اصول عقائد کے پچاس سبق، تالیف : آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، ترجمہ : سید قلبی حسین رضوی}