بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
2 years ago

عدل الٰہی(جبر و اختیار کا مسئلہ)

چھٹا سبق : جبر و اختیار کا  مسئلہ
 

پروردگار عالم کی عدالت سے مربوط مسائل  میں  سے ایک مسئلہ ”جبر و اختیار“ کا  مسئلہ  ھے ۔کیونکہ عقیدئہ جبر کے قائل لوگوں کے نزدیک انسان کو اپنے اعمال،رفتار  اور  گفتار پر کسی قسم  کا  اختیار نہیں   ھے   اور  اس کے اعضاء کی حر کا ت ایک مشین کے پرزوں کے مانند  ہیں ۔

اس کے بعد یہ سوال پیدا ھوتا  ھے  کہ یہ عقیدہ عدال الہٰی سے کیا مناسبت رکھتا  ھے ؟شاید اسی وجہ سے اشاعرہ نے ،جن کے بارے  میں  ہم نے گزشتہ سبق  میں  ذکر  کیا  اور  وہ حسن وقبح عقلی کے منکر  ہیں ،جبر کو قبول کرکے عدل الہٰی سے ان کار کیا  ھے  ۔کیونکہ جبر کو قبول کرنے کی صورت  میں  ”عدالت“  کا  کوئی مفھوم باقی نہیں  رہ جاتا  ھے ۔

اس بحث کو واضح کرنے کے لئے چند موضوعات کی دقیق وضاحت کرنا ضروری  ھے :

۱۔جبر کے عقیدہ  کا  سرچشمہ

ہرشخص اپنے وجود کی گہرائیوں  میں  احساس کرتا  ھے  کہ وہ اپنے ارادہ  میں آزاد  ھے ،مثال کے طورپر فلاں دوست کی وہ مالی مدد کرے یا نہ کرے یا یہ کہ پیاس کی حالت  میں  اگر اس کے سامنے پانی رکھا جائے تو وہ اسے پئے یا نہ پئے۔اگر کسی نے اس کے خلاف کوئی ظلم کیا ھو تو وہ اسے بخش دے یا نہ بخشے۔

یا یہ کہ ہر شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے  کا نپنے والے ہاتھ  اور  اپنے ارادہ سے حرکت کرنے والے ہاتھ کے در میان فرق کرسکتا  ھے ۔

آزادی ارادہ  کا  مسئلہ انسان  کا  ایک عام احساس ھونے کے باوجود کیوں انسانوں  کا  ایک گروہ جبر  کا  عقیدہ رکھتا ھے ؟!

اس کے مختلف اسباب  ہیں  کہ ہم ان  میں  سے ایک اہم سبب کو یہاں پر بیان کرتے  ہیں   اور  وہ یہ  ھے  کہ انسان مشاہدہ کرتا  ھے  کہ ماحول افراد پر اثر ڈالتا  ھے  ،تربیت بھی ایک دوسری علت  ھے  اسی طرح پروپیگنڈے،ذرائع ابلاغ  اور  سماجی ماحول بھی بلا شبہ انسان کی فکرو روح پر اثر انداز ھوتے  ہیں ۔کبھی اقتصادی حالات بھی انسان  میں  تبدیلیاں ایجاد کرنے  کا  سبب بنتے  ہیں  ۔وراثت کے سبب ھونے سے بھی ان کار نہیں  کیا جا سکتا  ھے ۔

یہ تمام عوامل اس  کا  سبب بنتے  ہیں  کہ انسان یہ خیال کرے کہ ہم با اختیار نہیں   ہیں  بلکہ ہمیں   داخلی  اور  خارجی ذاتی عوامل اکھٹے ھوکر مجبور کرتے  ہیں  کہ ہم کچھ ارادے  اور  فیصلے  کریں ،اگر یہ عوامل نہ ھوتے تو ہم سے بہت سے  کام سرزد نہیں  ھوتے۔یہ ایسے امور  ہیں ، جنھیںماحول کے جبر ،اقتصادی حالات کے جبر ،تعلیم وتربیت کے جبر  اور  وراثت کے جبر سے تعبیر کیا جاسکتا  ھے ۔ان عوامل  میں  سے ”مکتب جبر“فلاسفہ کی زیادہ توجہ  کا  مرکز بنا  ھے ۔

۲۔جبریوں کی غلط فہمی کی اصل وجہ   

لیکن جو لوگ ایسا خیال کرتے  ہیں  وہ ایک بنیادی بات سے غافل  ہیں   اور  وہ یہ  ھے  کہ بحث”محر  کا ت و عوامل“ اور  ”علت ناقصہ“کے بارے  میں  نہیں   ھے  بلکہ بحث”علت تامّہ“ میں   ھے ۔دوسرے الفاظ  میں  :کوئی شخص انسان کی فکر  اور  اس کے عمل  میں  ماحول،تہذیب وتمدن  اور  اقتصادی اسباب کے اثر انداز ھونے سے ان کار نہیں  کرسکتا  ھے ۔اصل بحث اس  میں   ھے  کہ ان تمام اسباب کے باوجود فیصلہ  کا  اختیار ہم ہی کو  ھے ۔

کیونکہ ہم واضح طور پر محسوس کرتے  ہیں  کہ سابقہ شہنشاہی نظام جیسے ایک غلط  اور  طاغوتی نظام  میں  بھی گمراہ ھونے کے مواقع فراہم تھے  ،لیکن ہم اس کے لئے مجبور نہیں  تھے ۔ ہمارے لئے اسی نظام  اور  ماحول  میں  بھی ممکن تھا کہ ہم رشوت لینے سے پرہیز  کریں ، فحاشی کے مراکز کی طرف رخ نہ  کریں   اور  آزادروی سے پرہیز  کریں ۔

لہذا ان مواقع کو”علت تامّہ“سے جدا کرنا ضروری  ھے ۔یہی وجہ  ھے  کہ بہت سے افراد غیر مہذب گھرانوں  اور  برے ماحول  میں  پرورش پانے یا نامناسب وراثت کے مالک ھونے کے باوجود اپنے لئے صحیح راہ  کا  انتخاب کرتے  ہیں ،یہاں تک کہ بعض اوقات یہی افراد اس قسم کے ماحول  اور  نظام کے خلاف انقلاب برپا کرکے اسے بدل دیتے  ہیں ، ورنہ اگر یہ ضروری ھوتاکہ تمام انسان ماحول،تہذیب و تمدن  اور  پروپیگنڈے کے تابع ھوں تو دنیا  میں  کبھی کوئی انقلاب برپا نہیں  ھو سکتا  اور  تمام افراد ماحول کے سامنے ہتھیار ڈال کر جدید ماحول پیدا کرنے سے قاصر رہتے۔

اس سے معلوم ھوتا  ھے  کہ تمام مذکورہ عوامل  میں  سے کوئی ایک بھی ”تقدیر ساز“نہیں   ھے  بلکہ یہ اسباب صرف مواقع فراہم کرتے  ہیں   اور  انسان کی تقدیر کو صرف اس  کا  ارادہ  اور  عزم بناتا  ھے ۔

یہ ایساہی  ھے  کہ ہم ایک انتہائی گرم موسم  میں  خدا کی اطاعت کرتے ھوئے روزے رکھنے  کا  عزم  کریں  جبکہ ہمارے وجود کے تمام ذرات پانی کی خواہش کرتے  ہیں  لیکن ہم خدا کی اطاعت  میں  ان کی پروا نہیں  کرتے جبکہ ممکن  ھے  کوئی دوسرا شخص حکم خدا کے باوجود اس خواہش کو قبول کرکے روزہ نہ رکھے ۔

نتیجہ کے طور پر ان تمام ”اسباب وعوامل“کے باوجود انسان کے پاس عزم وارادہ جیسی ایک چیز  ھے  جس سے وہ اپنا مقدر بنا سکتا  ھے ۔

۳۔مکتب جبر کے سماجی  اور  سیاسی اسباب   

حقیقت یہ  ھے  کہ ابتداسے ہی ”جبر واختیار“کے مسئلہ کے بارے  میں  کثرت سے غلط فائدہ اٹھایا گیا  ھے ۔انسان کے ارادہ کی آزادی کی ”نفی“ اور  جبر کے عقید کی تقویت کے لئے کچھ خاص عوامل  کا  ایک سلسلہ بھی موثر کردار ادا کرتا رہا  ھے ۔ان  میں  سے بعض حسب ذیل  ہیں:


الف:سیاسی عوامل


بہت سے جابر وستمگر ح کام محروم  اور  مستضعف لوگوں کے انقلابی جذبہ کو خاموش کرنے  اور  اپنی غیر قانو نی  اور  مطلق العنان حکومت کو باقی رکھنے کے لئے ہمیشہ اس فکر  کا  سہارا لیتے رھے   ہیں  کہ ہم خود کوئی اختیار نہیں  رکھتے،تقدیر  کا  ہاتھ  اور  تاریخ  کا  جبر ہماری قسمت  کا  فیصلہ کرنے والا  ھے ۔اگر کوئی امیر  ھے   اور  کوئی غریب تو یہ قضا وقدر کے حکم یا تاریخ کے جبر کے سبب سے  ھے !

واضح  ھے  کہ اس قسم  کا  طرز فکر کس حد تک لوگوں کے افکار کو بے حس کرسکتا  ھے   اور  جابر ح کام کی استعماری  اور  آمرانہ سیاست کی مدد کرسکتا  ھے ؟حالانکہ عقلی  اور  شرعی طور پر ہماری ”تقدیر“ خود ہمارے ہاتھوں  میں   ھے   اور  ”جبر“کے معنی  میں  قضا وقدر  کا  بالکل وجود نہیں   ھے  ۔الہٰی قضا وقدر کی تعیین  ہماری حر کا ت ،خواہشات ،ارادہ،ایمان،جستجو  اور  کوشش کے مطابق ھوتی  ھے ۔

ب۔نفسیاتی عوامل

جو کا ہل  اور  سست افراد اپنی زندگی  میں  اکثر نا  کام رہتے  ہیں  وہ ہر گز اس بات کو قبول نہیں  کرتے  ہیں  کہ ان کی سستی  اور  خطائیں ان کی شکست  کا  سبب بنی  ہیں ۔لہذا اپنے آپ کو بری الذمہ قراردینے کے لئے ”مکتب جبر“ کا  سہارا لیتے  ہیں  اور  اپنی نا کامی کو اپنی اجباری قسمت کے سر پر ڈالتے  ہیں  تاکہ اس طرح جھوٹا  اور  ظاہری سکون پیدا کر سکیں ۔وہ کہتے  ہیں  :کیا  کریں  ہماری قسمت کی چادر تو روز اول سے ہی ایسی سیاہ بنیُ گئی  ھے  جسے زمزم یا حوض کوثر  کا  پانی بھی سفید نہیں  کرسکتا ۔ہم با استعداد بھی  ہیں   اور  ہم نے کوشش بھی کی  ھے  لیکن افسوس ہماری قسمت نے ہمارا ساتھ نہیں  دیا!

ج۔سماجی عوامل:

بعض لوگ چاہتے  ہیں  کہ وہ آزادی کے ساتھ ھو اوھوس کی راھوں پر چلتے ر ہیں  اور  اپنی حیوانی خواہشات کے مطابق ہر گناہ کے مرتکب ھوتے ر ہیں  اس کے باوجود خیال کرتے  ہیں  کہ وہ گناہ  کار نہیں   ہیں   اور  سماج  میں  بھی اس قسم  کا  تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے  ہیں  کہ وہ بے گناہ  ہیں ۔

اس لئے وہ”عقیدہ جبر“ کا  سہارا لے کر اپنی ھوس رانی کی جھوٹی توجیہ کرتے ھوئے کہتے  ہیں  :ہمیں   اپنے  کاموں  میں  کسی قسم  کا  اختیار نہیں   ھے !

لیکن بخوبی جانتے  ہیں  کہ یہ سب جھوٹ  ھے  ،حتی اس قسم کی باتیں کرنے والے بھی جانتے  ہیں  کہ ان کے یہ عذر بے بنیاد  ہیں ۔لیکن عارضی لذتیں  اور  ناپائیدار منافع انھیں حقیقت  کا  کھلم کھلا بیان کرنے کی اجازت نہیں  دیتے ۔

لہذا ضروری  ھے  کہ سماج کو اس جبری طرز فکر سے  اور  قسمت و تقدیر کو جبر  کا  نتیجہ قرار دینے کے عقیدہ سے بچانے کے لئے کوشش کی جائے۔کیونکہ اس قسم  کا  عقید ہ

سا مراجی طاقتوں  کا آلہ  کار  اور  جھوٹی نا کامیوں کے لئے مختلف بہانوں  کا  وسیلہ  اور  سما ج  میں  آلودگی بڑھانے  کا  بہت بڑا سبب بنتا  ھے ۔