2 years ago

فضائلِ علی علیہ السلام انبیاء کی نظر میں

 

 پچھلے باب میں جو روایات پڑھنے والوں کی نظر سے گزریں، وہ فرموداتِ رسولِ اکرم حضرت محمد تھے۔ یہ روایات بخوبی بلند شخصیت ِ امیرالموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو ظاہر اور روشن کرتی ہیں۔ اب یہ مناسب ہوگا کہ علی کی شخصیت کو دوسرے انبیائے کرام کی نظر سے دیکھیں۔

 اس بارے میں تحقیق کرنے سے معلوم ہوگا کہ خدائے بزرگ و برتر نے حضرت علی کی شخصیت کا تعارف تمام انبیاء(حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک) کو خود کروایا ہے۔

 یہ حقیقت آسمانی کتب سے اور ارشاداتِ انبیائے کرام (قبل از پیغمبر اسلام) سے بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ ذیل میں ہم چند نہایت اہم واقعات اور مطالب کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروائیں گے۔

 

آدم علیہ السلام کا پنجتن پاک سے ارتباط

 حضرتِ آدم علیہ السلام اور اماں حو ّ ا کا واقعہ قرآن میں ذکر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کا جنت سے نکلنا اور زمین پر آباد ہونا ایسا قصہ ہے جسے شاید ہی کوئی ایساہو جو نہ جانتا ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حو ا ترکِ اولیٰ کی وجہ سے بہشت سے زمین پر بھیجے گئے۔سالہا سال تک حضرت آدم علیہ السلام زمین پر گریہ کرتے رہے اور خدا سے طلب ِمغفرت کرتے رہے لیکن بالآخر اسمائے پنجتن پاک یعنی محمد، علی علیہ السلام، جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے توسل سے اُن کی توبہ قبول ہوئی جیسے قرآنِ پاک میں ذکر ہے اور اسی اہم موضوع کی طرف اشارہ ہے:

 فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَبِّہ کَلِمٰاتٍ فَتٰابَ عَلَیْہِ اِنَّہُ ھُوَالتَّوّٰابُ الرَّحِیْم۔

 ”پس آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کلمات سیکھے، خدا نے اُن کی توبہ قبول کی، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے“۔(سورئہ بقرہ:آیت37)۔

 اس آیت کی تفسیر میں شیعہ اور سنی اکابرین نے درج ذیل روایت نقل کی ہے جس کو لکھنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:

 عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبّاسٍ قٰالَ:سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم عَنِ الْکَلِمٰتِ الَّتِیْ تَلَقّٰا اٰدَمُ مِنْ رَبِّہ فَتَابَ عَلَیْہِ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم سَأَلَہُ ”بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اِلَّا تُبْتَ عَلَیَّ“فَتَابَ عَلَیْہِ۔

 ”عبداللہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم سے اُن کلمات کے بارے میں سوال کیا گیا جو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے دریافت کئے تھے اور جن کی وجہ سے اُن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ جواب میں پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام نے بحق پنجتن پاک (محمد،علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین ) اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ اُن کی غلطی کو معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی غلطی کو معاف کردیا اور اُن کی توبہ کو قبول کرلیا“۔

 

 حوالہ جات

 1۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب علی علیہ السلام میں، حدیث89،صفحہ63.

 2۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،ینابیع المودة، صفحہ111،باب24اور ص283،حدیث55

 3۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں۔

 4۔ تفسیر نمونہ،ج1،صفحہ199اور تفسیر المیزان،جلد1،صفحہ149اوردوسری کتب میں۔

 اسی ضمن میں دوسری روایت بھی ملاحظہ ہو:

 قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ تَعٰالٰی آدَمَ اَبَالْبَشَرِ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُوْحِہِ اِلْتَفَتَ آدَمُ یُمْنَةَ الْعَرْشِ فَاِذاً فِی النُّوْرِخَمْسَةُ اَشْبٰاحٍ سُجَّداً وَرُکَّعٰا، قٰالَ آدَمُ:(علٰی نَبِیِّنٰا وَآلِہ وَعَلَیْہِ السَّلام)ھَلْ خَلَقْتَ اَحَداً مِنْ طِیْنِ قَبْلِی؟ قٰالَ لاٰ یَا آدَمَ! قٰالَ:فَمَنْ ھٰوٴُلٰاءِ الْخَمْسَةِ الْاَشْبٰاحِ الَّذِیْنَ اَرٰاھُمْ فِیْ ھَیْئَتِیْ وَصُوْرَتِیْ؟قٰالَ ھٰوٴُلٰاءِ خَمْسَةٌ مِنْ وُلْدِکَ،لَوْلَاھُمْ مَا خَلَقْتُکَ،ھٰوٴُلٰاءِ خَمْسَةٌ شَقَقْتُ لَھُمْ خَمْسَةَ اَسْمٰاءٍ مِنْ اَسْمٰائِی لَوْلَاھُمْ مٰاخَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَالنّٰارَ ، وِلَاالْعَرَْشَ ، وَلَاالکُرْسِیَ ، وَلَاالسَمَاءَ وَلَاالْاَرْضَ وَلَاالْمَلاٰ ئِکَةَ وَلَاالْاِنْسَ وَلَاالْجِنَّ،فَاَنَاالْمَحْمُوْدُوَھَذٰامُحَمَّدٌوَاَنَالعٰالی وَھٰذَاعَلِیٌّ،وَاَنَاالْفٰاطِرُوَھٰذِہِ فَاطِمَة،وَاَنَاالْاِحْسٰانُ وَھٰذَاالْحَسَن وَاَنَاالْمُحْسِنُ وَھٰذَالْحُسَیْن اَلَیْتُ بِعِزَّتِی اَنْ لٰایَأتِیْنِی اَحَدٌ مِثْقٰالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ بُغْضِ اَحَدِ ھِمْ اِلَّا اَدْخُلُہُ نٰاری وَلٰااُبٰالِی یٰاآدَمَ ھٰوٴُلٰاءِ صَفْوَتِی بِھِمْ اُنْجِیْھِم وَبِھِمْ اُھْلِکُھُمْ فِاِذَاکَانَ لَکَ اِلَیَّ حٰاجَةٌ فَبِھٰوٴُلٰاءِ تَوَسَّلْ۔

 ”پیغمبر اکرم نے فرمایاکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو خلق فرمایا اور اپنی روح میں سے اُس میں پھونکی تو آدم علیہ السلام نے عرش کے دائیں جانب نظر کی تو دیکھا کہ پانچ نوریشخصیات رکوع و سجود کی حالت میں ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے خدا! کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی کو مٹی اور پانی سے خلق کیا ہے؟ جواب آیا ،نہیں۔ میں نے کسی کو خلق نہیں کیا۔ حضرتِ آدم علیہ السلام نے پھر عرض کیا کہ یہ پانچ شخصیات جو ظاہری صورت میں میری طرح کی ہیں، کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ پانچ تن تیری نسل سے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔ان کے ناموں کو اپنے ناموں سے اخذ کیا ہے۔ اگر یہ پانچ تن نہ ہوتے تو نہ بہشت و دوزخ کو پیدا کرتا اور نہ ہی عرش و کرسی کو پیدا کرتا، نہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا اور نہ انس و جن و فرشتگان کو پیدا کرتا۔ان پانچ ہستیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ نے اس طرح کروایا کہ اے آدم! سنو:

 

 میں محمود ہوں اور یہ محمد ہیں

 میں عالی ہوں اور یہ علی ہیں

 میں فاطر ہوں اور یہ فاطمہ ہیں

 میں محسن ہوں اور یہ حسن ہیں

 میں احسان ہوں اور یہ حسین ہیں

 مجھے اپنی عزت وجلالت کی قسم کہ اگر کسی بشر کے دل میں ان پانچ تن کیلئے تھوری سی دشمنی اورکینہ بھی ہوگا،اُس کو داخلِ جہنم کروں گا۔ اے آدم ! یہ پانچ تن میرے چنے ہوئے ہیں اور ہر کسی کی نجات یا ہلاکت ان سے محبت یا دشمنی سے وابستہ ہوگی۔ اے آدم ! ہر وقت جب تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہوتو ان کا توسل پیدا کرو“۔

 

 حوالہ جات

 1۔ علامہ امینی،کتاب فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،صفحہ40۔

 2۔ تفسیر المیزان،جلد1۔

 3۔ مجمع البیان،جلد1اور دوسری تفاسیر میںآ یت 37،سورئہ بقرہ کے ذیل میں۔

 

دوسرے انبیاء کی بعثت ولایت ِپیغمبر و علی کی مرہونِ منت ہے

 عَنِ الْاَسْوَدِعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُود قٰالَ،قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یا عَبْدَاللّٰہِ أَ تٰانِیْ مَلَکٌ فَقٰالَ:یَامُحَمَّدُ!”وَاسْئَل مَنْ اَرْسَلْنٰامِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنٰا“عَلٰی مٰابُعِثُوا؟قٰالَ:قُلْتُ:عَلٰی مٰا

 بُعِثُوْا؟ قٰالَ:عَلٰی وَلَایَتِکَ وَوِلَایَةِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب۔

 ”اسود جنابِ عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایاکہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ آیا اور کہا کہ اے پیغمبر خدا!آپ مجھ سے اپنے سے پہلے انبیاء کے بارے میں سوال کریں کہ وہ کس لئے نبوت پر مبعوث ہوئے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اُس فرشتے سے کہا ،بتاؤ کہ وہ کس لئے مبعوث ہوئے تھے؟ فرشتے نے کہا کہ وہ آپ کی اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی تصدیق کیلئے مبعوث ہوئے تھے“۔

 

 حوالہ جات

 1۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حالِ امام علی ،ج2،ص97،حدیث602،شرح محمودی

 2۔ حاکم نیشاپوری، کتاب ”المعرفة“اپنی سند کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود سے۔

 

حضرت علی علیہ السلام آسمانی کتابوں میں

 حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کی معرفت اور عظمت کو پہچاننے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ آسمانی کتابیں اور گزشتہ پیغمبروں کے صحائف ہیں۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پہلے انسان اور پیغمبر حضرتِ آدم علیہ السلام کو اسمائے اعلیٰ یعنی حضرت محمد،علی علیہ السلام،جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا،حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کی تعلیم دی تھی تو انہوں نے ان اسماء کی تعلیم اپنی اولاد اور دوسرے انبیاء کو پہنچا دی۔ محکم روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان نوری افراد کو خلقت ِ بشر سے پہلے پیدا کیا تھا تاکہ دنیا میں یہ افراد بطورِ نمونہ، کامل ترین اخلاق کا مظہر ہوں۔

 لہٰذا موضوع کے اعتبار سے مزید اطلاعات حاصل کرنے کیلئے ہم حکیم سید محمود سیالکوٹی کی کتاب ”علی و پیغمبران“ سے چند اقتباسات لیتے ہیں:

 

1۔ نامِ علی علیہ السلام انجیل میں

 آسمانی کتابوں میں خاتم النبیین حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے جانشین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں بشارت دی گئی تھی۔ لیکن اسلام دشمن لوگ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ حقیقت واضح ہو بلکہ اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے درپے تھے۔مثلاً انجیل میں”صحیفہ غزل الغزلات“ اشاعت ِ لندن،سال1800عیسوی،باب5،آیت1

 تا10میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ارشادات بیان کئے گئے ہیں جس میں انہوں نے پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے نائب امیرالموٴمنین علی علیہ السلام کے بارے میں اشارہ کیا ہے اور آخر میں واضح کہتے ہیں کہ وہ ”خلومحمد یم“(وہ دوست اور محبوبِ محمد ہیں)۔لیکن وہ انجیل جو 1800ء کے بعد شائع ہوئی ہے، اُن میں سے یہ الفاظ ”خلومحمد یم“ حذف کردئیے گئے ہیں۔ اسی طرح لفظ”ایلیا“ یا”ایلی“ یا ”آلیا“ جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہے، مخالفین یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبر حضرت الیاس یا مسیح یا یوحنّا ہیں ،نہ کہ حضرت علی علیہ السلام۔

 لیکن بہت سے مسیحی علماء نے لفظ ”ایلیا“ یا ”ایلی“ یا ”آلیا“ کے بارے میں تحقیق کی ہے اور وہ تعصب کی دنیا سے باہر آگئے اور پھر اصل حقیقت بیان کی۔

 ایک مسیحی عالم Mr. J.B. Galidonلکھتے ہیں:

 In the language of oldest and present Habrew the word ALLIA"or "AILEE" is not in the meanings of God or Allah but this word is showing that in text and last time of this world anyone will become nominates "ALLIA" or "AILEE".

 ”زبانِ عبرانی جدید یا قدیم میں لفظ”ایلیا“ یا”ایلی“ سے مراد اللہ نہیں ہے بلکہ اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ زمانے میں یا آخری زمانہ میں کوئی شخص آئے گا جس کا نام ”ایلیا“ یا ”ایلی“ ہوگا“۔

 

 حوالہ

 1. "A notebook on old and new testaments of Bible" published in London in 1908, Vol.1, page 428."

 2۔ حکیم سید محمود سیالکوٹی کتاب ”علی اور پیغمبران“،دلائل اور شواہد سے ثابت کیا ہے کہ

 اسماء”ایلیا“ یا ”ایلی“ یا ”آلیا“ سے مراد علی علیہ السلام ہیں۔

 

2۔ علی او رپیشگوئیِ داؤد

 حضرت علی علیہ السلام کا مقدس نام زبور(حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب) میں بھی آفتاب کی طرح درخشاں ہے۔ آسمانی کتاب زبور میں حضرت علی علیہ السلام کا دنیا میں آنا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب”علی اور پیغمبران“ میں زبور سے ایک حصہ نقل کیا گیا ہے۔ زبور کا یہ قدیمی نسخہ احسان اللہ دمشقی ،رہبرمسیحیان،شام کے پاس بھی موجود ہے۔

 

زبور سے اقتباس

 (مطعنی شل قثوتینمر قث پاھینوا نی وز”ایلی“ متازہ امطع ملغ شلو شمائت پزانان ہمنیقتہ خلذ وقث فل”حدار“

 کمرتوہ شیھوپلت انی قاہ بوتاہ خزیماہ رث جین”کعاباہ“ بنہ اشود کلیامہ کاذوقثوتی قتمرعندوبریما برینم فل خلذملغ خایوشنی پم مغلینم عت جنحاریون)۔

 ”تم پر اُس شخصیت جس کا نام ”ایلی“ ہے، کی اطاعت واجب ہے اور دین و دنیاکے ہر کام میں اُس کی فرمانبرداری تمہاری اصلاح کرے گی۔ اُس عظیم شخصیت کو ”حدار“(حیدر) کہتے ہیں۔ وہ بیکسوں اور ضعیفوں کا مددگار ہوگا اور وہ شیروں کا شیرہوگا اور بے پناہ طاقت کا مالک ہوگا۔وہ کعابا(کعبہ) میں پیدا ہوگا۔ تمام پر واجب ہے کہ اُس کے دامن کو پکڑیں اور غلام کی طرح اُس کی اطاعت کیلئے ہمیشہ حاضر رہیں۔ جو سن سکتا ہے اُس کی ہر بات کو غور سے سنے اور جو عقل و فہم رکھتا ہے، اُس کی باتوں کو سمجھے۔ جو دل و مغز رکھتا ہے، وہ غوروفکر کرے کیونکہ جو وقت گزرجاتا ہے، واپس نہیں آتا“۔

 

3۔سلیمان کا علی سے مدد مانگن

 اس باب کے شروع میں احادیث و روایات اور سورئہ بقرہ کی آیت37کی تشریح کے حوالہ سے بیان ہوچکا ہے کہ وہ کلمات جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یاد کئے تھے اور انہی کلمات کا اللہ تعالیٰ کو واسطہ دیا تھا، پانچ تن پاک کے اسمائے گرامی تھے۔ اب ایک اور پیغمبرحق یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ان پنجتن پاک کے مقدس ناموں کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک دفعہ پھر کتاب”علی و پیغمبران“ سے اقتباس نقل کرتے ہیں جو ذیل میں درج کیا جارہا ہے:

 ”پہلی جنگ ِعظیم(1916ء میلادی عیسوی) میں جب انگریزوں کا ایک دستہ بیت المقدس سے چند کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں اونترہ کے پاس مورچہ بندی کیلئے کھدائی کررہا تھا تو وہاں اُن کو ایک چاندی کی تختی ملی جس کے چاروں طرف خوبصورت قیمتی موتی جڑے ہوئے تھے اور اُس کے اوپر سونے کے پانی سے کچھ لکھا ہوا تھا جو کسی قدیم زبان میں تھا ۔وہ اُسے اپنے انچارج میجر ای۔این۔گرینڈل(Maj. E.N.Grandal) کے پاس لے آئے۔ وہ بھی اس کو نہ سمجھ سکا اور بالآخر اسے اپنے کمانڈر انچیف جنرل گلیڈ سٹون تک پہنچا دیا۔ وہ بھی اس کو نہ سمجھ سکا اور اُس نے اسے آثارِ قدیمہ کے ماہرین تک پہنچادیا۔1918ء میں جنگ بند ہوئی تو ایک کمیٹی بنادی گئی جس کے ممبران امریکہ، برطانیہ،فرانس،جرمنی اور دیگر ممالک کے ماہرین تھے۔ چند ماہ کی کوشش اور تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ تختی اصل میں”لوحِ سلیمانی“ ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے چند کلمات بھی اُس پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس تختی پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ ہم اس کے اصل الفاظ اور ترجمہ نقل کرتے ہیں:

 

ترجمہ لوحِ سلیمانی لوحِ سلیمانی کا نقش

 اللہ

 احمد

 ایلی

 باھتول

 حاسن

 حاسین

 

 ”اے احمد میری فریاد سن لیں

 یا ایلی (علی) میری مدد فرمائیے

 اے باھتول (بتول ) مجھ پر نظر کرم فرمائیے

 اے حاسن (حسن) مجھ پر کرم فرمائیے

 اے حاسین (حسین) مجھے خوشی بخشئے

 یہ سلیمان پنجتن پاک سے مدد مانگ رہا ہے

 اور علی قدرت اللہ ہے“۔

 مزید اطلاعات کیلئے کتابWonderful Stories of Islamاشاعت ِلندن،صفحہ249پر مراجعہ کریں۔

 

4۔ علی کا نام کشتیِ نوح کا زیور

 پیغمبرانِ بزرگ جو نامِ مقدس پیغمبر اسلام حضرت محمد،علی علیہ السلام ، جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسنین شریفین علیہما السلام پکار کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہے، اُن میں حضرتِ نوح علیہ السلام بھی شامل ہیں۔اس کا ثبوت وہ لکڑی کے تختے ہیں جو روسی معدنیات کے کارکنوں نے دریافت کئے تھے۔ حکیم سید محمود سیالکوٹی نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر اس طرح سے کیا ہے:

 ”جنوری1951ء میں روسی محکمہ معدنیات کے چند کارکن زمین کھودنے میں مشغول تھے کہ اچانک لکڑی کے چند تختے اُن کو نظر آئے جو عام لکڑی کے تختوں سے مختلف تھے اور کسی چھپے راز کی نشاندہی کرتے تھے۔انہی لکڑی کے تختوں میں ایک ایسی لکڑی کی تختی ملی جس کی لمبائی چودہ انچ اور چوڑائی تقریباً دس انچ تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ باقی تختے وقت گزرنے کے ساتھ کہنہ اور بوسیدہ ہوچکے تھے لیکن یہ تختہ ابھی بالکل اپنی صحیح حالت میں تھا۔ اس پر چند قدیم الفاظ درج تھے۔ روسی حکومت نے تحقیق کیلئے 27/فروری1953ء کو کمیٹی بنائی جس کے ممبران قدیم زبانوں کے ماہر تھے۔ آٹھ ماہ کی سخت محنت اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ جو الفاظ لکھے ہوئے ہیں، وہ مدد مانگنے اور سلامتی کی دعا کیلئے لکھے گئے ہیں۔ذیل میں اس کی تصویر دی جارہی ہے:

 تحقیقی کمیٹی نے اُن الفاظ کا ترجمہ روسی زبان میں کیا جس کا ترجمہ لسانیات کے ماہرمسٹر این۔ایف۔ماکس( N. F. Maks)نے انگریزی زبان میں کیا جو ذیل میں درج کیا جارہا ہے:

 O" my God! my Helper! Keep my hand with mercy andwith your holy bodies, Mohammad, Alia, Shabbar, Shabbir, Fatema. They all are biggests and honourables. The world established for them. Help me by their names. You can reform to right.

 

 ترجمہ

 ”اے میرے اللہ! اے میرے مددگار! ذواتِ مقدسہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،

 ایلیا ،شبر ،شبیر اور فاطمہ علیہم السلام کے صدقہ میں مجھ پر اپنا رحم و کرم فرما۔ یہ پنجتن سب سے بڑے اور سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔ یہ تمام دنیا اُن کیلئے بنائی گئی۔ اے میرے پروردگار! اُن کے ناموں کا واسطہ! میری مدد فرما۔ تو ہی صحیح راستے کی ہدایت کرنے والاہے“۔

 

حضرتِ موسیٰ شہادتِ علی سے باخبر تھے

 مرحوم علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب جلاء العیون، جلد1،صفحہ276،باب زندگانی حضرت علی علیہ السلام میں لکھتے ہیں:

 ”ابن بابویہ ،معتبرسندکے ساتھ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ مسائل پوچھے اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے پیغمبر کا وصی اُن کی زندگی کے بعد اس دنیا میں کتنا عرصہ زندہ رہے گا؟ حضرت نے فرمایا کہ تیس سال۔ اُس یہودی نے پھر سوال کیا کہ بتائیں کہ وہ طبعی موت مرے گا یا قتل کردیاجائے گا؟حضرت نے جواب دیا کہ وہ قتل کردیا جائے گا۔ اُس کے سر پر ضربت لگائی جائے گی۔ اُس یہودی نے کہا:خدا کی قسم! آپ نے سچ کہا۔ میں نے اُس کتاب میں جو حضرت موسیٰ نے تحریر فرمائی ہے اور حضرتِ ہارون نے لکھی ہے، اسی طرح ہی پڑھا ہے“۔

 

حضرت ابراہیم اور معرفت ِعلی

 جابر ابن عبداللہ حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کوملکوت دکھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرش کے پاس ایک نور دیکھا تو پوچھا کہ پروردگار! یہ نور کونسا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نورِ محمد ہے جو میری مخلوق میں سب سے زیادہ عزت و بزرگی والا ہے، اس نور کے ساتھ ایک دوسرے نور کو بھی دیکھا۔ اُس کے بارے میں بھی حضرتِ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ہے جو میرے دین کا مدد کرنے والا ہے۔ ان دو نوروں کے ساتھ تین نور اور دیکھے اور اُن کے بارے میں پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نورِ فاطمہ ہے جو اپنے حُب داروں کو آتش جہنم سے بچائے گا اور دوسرے دو نور اِس کے بیٹے حسن اور حسین کے ہیں ۔ پھر فرمایا:اے میرے پروردگار!میں کچھ اور نور بھی اس نور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ کہا گیا کہ یہ اماموں کے نور ہیں جو نسلِ علی و فاطمہ علیہم السلام سے ہوں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی پروردگار!تجھے پنجتن پاک کا واسطہ!مجھے ان کا تعارف کروا۔کہا گیا کہ ان میں پہلا علی ابن الحسین اور پھر اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے جعفر اور اُن کے بیٹے موسیٰ اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے حسن اور اُن کے بیٹے حجت ِ قائم ہیں“۔

 حوالہ کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،مصنف:آیت اللہ شہید دستغیب،صفحہ

 127،تفسیر برہان سے نقل کی گئی۔

 

حضرت ابراہیم بھی شیعانِ علی سے ہیں

 حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو انتہائی بڑی منزلت کے مالک تھے۔ جب انہوں نے انوارِ شیعانِ اہلِ بیت کو دیکھاجو آفتابِ ولایت کے گرد ستاروں کی طرح چمک رہے تھے،خدا سے التجا کی کہ اُسے بھی شیعانِ علی میں سے قرار دے ۔ چنانچہ تفسیر سورئہ الصٰفّٰت:آیت83میں:

 ”وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہ لَاِبْرَاھِیْمَ“

 ”اور بے شک اُن کے شیعوں میں سے ابراہیم ہیں“۔

 حوالہ آیت اللہ دستغیب، کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا، صفحہ126۔

 

حضرتِ خضر کی حضرتِ علی سے دوستی

 اعمش روایات اور احادیث کے معتبر راوی ہیں اور شیعہ سنی دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک اندھی عورت تھی۔ اُس کاکام یہ تھا کہ لوگوں کو پانی پلاتی تھی اور کہتی تھی کہ علی علیہ السلام کی دوستی کے صلہ میں پانی پیو۔ اُسی کومکہ میں بھی دیکھا،اس حال میں کہ اُس کی دونوں آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان سے دیکھ سکتی تھی اور پانی پلاتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ لوگو! پانی پیو اُس کی دوستی کے صدقہ میں کہ جس نے میری بینائی لوٹا دی۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اُس سے اُس کا حال پوچھاتو اُس نے جواب دیا کہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہنے لگا کہ تو ہی وہ عورت ہے جو علی علیہ السلام کی حب دار ہے؟ میں نے کہا:ہاں۔ اُس نے کہا:

 ”اَلّٰلھُمَّ اِنْ کَانَتْ صَادِقَةً فَرُدَّ عَلَیْھَا بَصَرَھَا“

 ”خدایا! اگر یہ کنیز اپنے دعوے میں سچی ہے تو اس کی بینائی اس کو واپس لوٹا دے“۔

 خدا کی قسم! اُس حال میں میری بینائی لوٹ آئی۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ میں خضر ہوں اور میں شیعہٴ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہوں۔

 

 حوالہ جات

 1۔ سید ابوتراب صنائی، کتاب قصہ ہای قرآن ، باب شرح زندگی حضرتِ خضر ،صفحہ120

 2۔ زندگانی فاطمة الزہرا،شہید آیت اللہ دستغیب،صفحہ162جنہوں نے سفینة البحار جلد

 

 1،صفحہ391سے نقل کیا ہے۔