7 months ago

رھبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای اور مغرب میں عورت کا مقام

 

برطانیہ میں ۱۹۴۷ء تک حصول علم کرنے والی خواتین کو سند اور ڈگری نہیں دی جاتی تھی،ان کا ماننا تھا کہ عورت «ڈگری والی» نہیں ہونی چاہیئے! آج یہی افراد اسلامی جمہوریہ کے مقابل آکر حقوق زن کی بات کررہے ہیں! اس دور میں جب مغرب کی سرزمین پر عورت کو اس طرح حقیر جانا جاتا تھا اسلامی ایران میں «خاتون اصفہان» کو اس زمانہ کے عالی مرتبت مجتہد نے سند اجتہاد سے نوازا،شہر اصفہان میں ان کا فلسفہ و فقہ کا درس منعقد ہوتا تھا۔یہ ہے اسلام۔

حوالہ:امام خمینی(رح) کے زائرین کے عظیم اجتماع سے خطاب۔۴ جون سن ۱۹۹۷ء۔

:ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں

 

یوروپ والے جو آج اپنے یہاں عورتوں کی آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں،آج سے نصف صدی پہلے تک عورت کو اس لائق بھی نہیں سمجھتے تھے کہ اپنی ذاتی ملکیت و جائیداد میں تصرف کرے،ایک یوروپی یا امریکی عورت کو آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے تک بڑی سے بڑی دولت اور جائیداد رکھنے کے باوجود، اپنے ارادہ اور رجحان کے مطابق اس میں تصرف کرنے کی اجازت نہ تھی،ضروری تھا کہ وہ اس جائیداد اور دولت کو اپنے شوہر، باپ یا بھائی کے حوالے کرے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اس عورت کے حق میں یا اپنے ذاتی کاموں کے لئے اسے خرچ کریں۔

 

اسی صدی کے ابتدائی دور یعنی عیسوی صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں عورتیں حقیقی معنوں میں اپنی ملکیت پرحق نہیں رکھتی تھیں،یعنی عورت شادی کرنے کے بعد، شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی دولت میں تـصرف نہیں کرسکتی تھی،اب آپ اس کا موازنہ اسلامی تعلیمات و احکام سے کیجئے جہاں عورت کو مستقل حیثیت دی جاتی ہے۔

 

آپ جانتے ہیں کہ موجودہ صدی کی دوسری دہائیوں تک کوئی عورت یوروپ کے کسی علاقہ میں بھی حق رائے دہی نہیں رکھتی تھی۔ جہاں ڈیمو کریسی تھی بھی وہاں عورت اپنی ملکیت و جائداد میں تصرف کا حق نہیں رکھتی تھی۔ دوسری دہائی یعنی 1916 یا 1918 کے بعد دھیرے دھیرے یوروپی ممالک میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ عورت کو بھی مردوں کی طرح اظہار رائے اور اپنی ملکیت و جائداد میں تصرف جیسے دیگر سماجی حقوق دیئے جائیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سلسلہ میں یوروپ بڑی دیر سے جاگا۔ ایسا لگتا ہے کہ مغربی ممالک کھوکھلے شور شرابے اور جھوٹے دعؤوں کے ذریعہ  اب اس پسماندگی اور نا انصافی کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔

 

 شاہی وطاغوتی حکومتوں میں عورت کے بارے میں ہمیشہ غلط تصورات رہے ہیں،آج مغربی دنیا میں بھی ایسا ہی ہے، البتہ عین ممکن ہے کہ انہی مغربی حکومتوں میں بہت سے مردوں کی طرح کچھ اداروں اور دفاتر کی رئیس، ڈائرکٹر اور ذمہ دار، محترم اور پاکدامن عورتیں بھی وجود رکھتی ہوں،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مغربی تہذیب میں عورت کے سلسلہ میں غلط خیالات و تصورات رچ بس گئے ہیں،یہ تصورات اور یہ نقطۂ نگاہ غلط اور توہین آمیز ہے۔

حوالہ:ملک کی قرآنیات سے متعلق خواتین کی ایک جماعت سے خطاب۔۲۰ اکتوبر سن ۲۰۰۹ ء۔

 

وجودہ اعداد و شمار کے مطابق مغربی دنیا میں عورتوں پر جسمانی مظالم اور روحانی ایذا رسانیوں کی تعداد خود ہمارے ملک اور دیگرممالک سے کہیں زیادہ ہیں۔

حوالہ:حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت پر ممتاز خواتین کے عظیم اجتماع سے خطاب۔۴ جولائی سن ۲۰۰۷ء۔

 

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ بڑھنے والی تجارت عورتوں کی تجارت اور اسمگلنگ ہے،چند ممالک منجملہ صہیونی اسرائیل کی  صورتحال تو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ بدتر ہے،نوکری اور شادی وغیرہ کا جھانسہ دے کر لاتینی امریکہ، ایشیا اور یوروپ کے کچھ غریب ممالک سے عورتوں اور لڑکیوں کو لایا جاتا ہے اور پھرانہیں ایسے اڈوں کے سپرد کردیا جاتا ہے جن کے تصور اور نام سے انسان کا جسم کانپ اٹھتا ہے۔

حوالہ:۔موضوع تاریخ کی ممتاز خواتین اسکالر کے اجتماع سے خطاب۔۲۲ مئی سن ۲۰۱۱ء۔