بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
2 years ago

مرد اور عورت کے درميان بنيادي فرق کيا ہے؟

 

 

پہلي بات يہ کہ علمي، اعتقادي، اخلاقي اور انساني کمال سے متعلق علوم و مسائل ميں مرد اور عورت کے درميان کوئي فرق نہيں ہے؛ اور دوسري بات يہ مرد اور عورت کے درميان فرائض کي تقسيم کے حوالے سے فرق ہے تاہم يہ فرق انساني کمال و ارتقاء ميں کوئي کردار ادا نہيں کرتا-

 

پہلي بات کي تشريح ميں کہنا چاہئے کہ: تمام انبياء (ع) ـ بالخصوص رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کي نبوت و رسالت کا ہدف ايک طرف سے کتاب و حکمت کي تعليم اور دوسري طرف سے تزکيۂ نفوس ہے- يعني انبياء آئے ہيں تاکہ لوگوں کو معارف الہيہ سے روشناس کرا ديں اور معاشرے کے اخلاق و عقائد کي تکميل کريں-

ارشاد الہي ہے:

{ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ} (1)

[انبياء (ع)] انہيں کتاب و حکمت کي تعليم ديتے ہيں اور ان کا تزکيہ کرتے ہيں"-

انبياء (ع) آئے ہيں تا کہ لوگوں کو کتاب و حکمت کي تعليم ديں اور ان کا تزکيہ کريں، اور ان دو خصوصيات کا تعلق انسان کي جان اور روح سے ہے اور روح انسان چونکہ ملکوتي ہے، اس لئے اس ميں مرد يا عورت کا کوئي سوال نہيں ہے-

تمام انبياء (ع) تعليم و تربيت اور تزکيہ کے لئے آئے ہيں تاکہ نظري لحاظ سے معاشرے کو علوم الہيہ سے روشناس کرا ديں اور عملي لحاظ سے بھي لوگوں کو روح کو پاکيزہ کرديں- يہ خصوصيات انسان کي روح کي طرف لوٹتي ہيں اور اس ميں مذکر اور مۆنث کا سوال نہيں ہے کيونکہ انسان کا جسم مذکر يا مۆنث ہے؛ ورنہ روح تو مجرد ہے-

مثال کے طور پر آپ سوال کرسکتے ہيں کہ کيا فرشتوں کے فلاں گروہ اور فلاں گروہ کے درميان فرق ہے يا نہيں ہے؟

جواب يہ ہوگا کہ فرشتے مذکر يا مۆنث نہيں ہوتے، وہ نہ مرد ہيں اور نہ ہي عورتيں کيونکہ وہ مجرد اور نوراني ہيں [روح انسان کي طرح]-

دوسري بات کي وضاحت يہ ہے کہ: عالم فطرت ميں فرائض انسانوں کي جسماني خصوصيات کي بنا پر تقسيم کئے گئے ہيں- بعض فرائض مرد اور عورت کے درميان مشترکہ ہيں اور بعض فرائض جنس کے لحاظ سے عورتوں کے لئے يا پھر مردوں کے لئے مختص ہيں اور يہ تقسيم کار بھي انتظامي اور عملي لحاظ سے ہے- جبکہ تقوي دونوں کے لئے ہے اور اگر مرد اپنے کاموں اور فرائض ميں زيادہ باتقوي اور بااخلاص ہو تو وہ کامل تر ہے اور اگر عورت اپنے کاموں اور فرائض ميں زيادہ مخلص اور زيادہ متقي ہو تو وہ کامل تر ہے-

حوالہ  جات:

1- سوره بقره ( 2) :آيت 129

منبع: توصيه ها،پرسش ها وپاسخ ها ؛در محضر آيت الله جوادي آملي؛نهادنمايندگي مقام معظم رهبري در دانشگاه ها

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی