بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ الضحَي‏ *** قسم ہے ایک پهر چهڑے دن کی
3 years ago

بچے کے لیے ماں کا پہلا تحفہ

 

ماں کا دودھ ایک مکمل غذا ہے، اس میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی ایک شیر خوار بچے کو ضررت ہوتی ہے، بلا شبہ ماں کے دودھ میں وہ تمام ضروری اجزاء پائے جاتے ہیں جن کا نعم البدل کوئی مصنوعی دودھ فراہم نہیں کر سکتا۔ ہر نوزائیدہ بچے کے لئے ماں کا دودھ بہترین غذا ہے اور پیدا ہونے والے بچے کیلئے ماں کی طرف سے پہلا تحفہ۔ بچے کے پیدا ہونے کے بعد ماں کے دودھ میں کھیس یا پیوسی (Colustrum) کا افراز ہوتا ہے۔ کھیس میں پروٹین، چکنائی جذب کرنے والے حیاتین اور دیگر صحت بخش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کھیس نوزائیدہ بچے کیلئے بہترین متوازن اور صحت بخش غذا ہے۔اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جہاں آنول نال بچے کو فراہمی غذا کا کام چھوڑتی ہے ، ماں کا دودھ اس ذمہ داری کو سنبھال لیتا ہے۔ یہ ایسے بہت سے زندہ خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو نوزائیدہ بچے کو ان بے شمار عوامل سے محفوظ رکھتے ہیں جو امراض کا سبب بنتے ہیں۔

ایک ماہر کے مطابق بچے کے پیدا ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے ماں کا دودھ دے دینا چاہئے۔

چنانچہ ضروری ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے، بچے کو ماں کا دودھ پلایا جائے۔ اس سے ماں کو ایک فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے دماغ میں پیغام جائے گا کہ دودھ کی ضرورت ہے اور دودھ کی افزائش شروع ہو جائے گی۔ آج کل بھی معالجین کا یہ اصرار ہوتا ہے کہ زچگی کے بعد ماں کو آرام کرنے کا موقع دیا جائے اور بچے کو اس سے دور رکھا جائے۔ ایسے معالجین کے لئے یہ بات قبول کرنا یقینا مشکل ہو گی، مگر اس بات کی ضرورت ہے کہ زچگی کے فوراً بعد ماں کو بچے کو اپنا دودھ پلانے کی اجازت دی جائے۔ اس صورت میں ماں کو جو تسکین اوراطمینان میسر آئے گا وہ یقینا ماں کی صحت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ بچے کا چھاتی سے دودھ پینے کا عمل ”اوکسی ٹوسن“ کے افراز کو بڑھائے گا۔ یہ جزو زچگی کے تیسرے مرحلے میں آنول اور رحمی کھنچاﺅ میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔

ماں کا دودھ ایک مکمل غذا ہے۔ اس کے اندر وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی ایک نوزائیدہ کو ضرورت ہوتی ہے۔ دودھ بنانے والے اداروں نے ماں کے دودھ کی نقل پر دودھ تیار کیا، مگر تمام اجزاءپائے جانے کے باوجود اس مصنوعی دودھ کا مقابلہ ماں کے دودھ سے نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ ماں کے دودھ میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جن کا نعم البدل نہیں۔

تحریر: ثمینہ سلیم، اسلام آباد   ( ماہنامہ عبقری )